بلوچستان میں پریس اور اظہار رائے کی آزادی کو بحال کیا جائے

| November 21, 2017 | 0 Comments
پریس ریلیز
لاہور
20-نومبر، 2017
 
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے بلوچستان میں اظہار رائے کی آزادی پر پابندیوں اور خوف کی مستقل فضاء پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 
اپنے ایک بیان میں کمیشن نے کہا : ’’ ایچ آر سی پی حکومت اور بلوچستان کے علیحدگی پسند گروہوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ میڈیا کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت ہو اور یہ کہ اخبارات اور صحافی کسی بھی قسم کے خطرات یا تشدد سے آزاد ہوں۔‘‘ اس نے اپنے اس مطالبے کو بھی دہرایا کہ ’’ ایک آزاد پریس جمہوری نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے اور یہ تمام نقطہ ہائے نظر ، اگرچہ یہ ایک دوسرے سے متضاد ہو سکتے ہیں، کا احاطہ کرتا ہے۔‘‘
’’جنگجو تنظیموں کی دھمکیوں کے باعث بلوچستان میں تقریباً ایک ماہ سے اخبارات کی ترسیل اور تقریباً 15پریس کلب بند ہیں۔کچھ دن پہلے ان گروہوں نے حب پریس کلب اور تربت میں اخبارات فروخت کرنے والی ایک دکان پر دستی بموں سے حملہ کیا تھا۔انہوں نے آواران کے علاقے میں اخبارات لے جانے والی ایک وین کے ٹائر بھی پھاڑ دیے اور اخبارات جلا دیے ۔ نتیجتاً، بلوچستان حکومت نے تین مقامی اخبارات روزنامہ انتخاب، بلوچستان ایکسپریس اور روزنامہ آزادی کو بند کردیا۔‘‘
’’ایک ایسی جابرانہ فضاء میں جہاں آزادی اظہارکو پہلے ہی متعدد پابندیوں اور خطرات کا سامنا ہے، اخبارات پر موجودہ پابندی صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا کرے گی۔ 
حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ اختلافی آراء کے اظہار کے لیے صحافت کی آزادی کو یقینی بنائے اور اس حوالے سے کسی قسم کا جبر نہ کیا جائے خواہ وہ مالیاتی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں۔ مزید برآں جنگجوؤں کی طرف سے صحافت کو دھمکیوں کا نتیجہ صرف یہ ہی نکلے گا کہ ان کا نقطہ نظر سامنے نہیں آسکے گا‘‘۔
’’موجودہ حالات میں ایچ آر سی پی کا تمام فریقین سے مطالبہ ہے کہ وہ ایسی تمام کارروائیاں فوری طور پر ترک کردیں جو صحافیوں، اخبارات کے ملازمین، ہاکروں اور ان کے روزگار کے لیے خطرے کا موجب ہیں۔ ایچ آر سی پی کاعلاقے میں تعینات سکیورٹی فورسز سے بھی مطالبہ ہے کہ وہ اخبارات کے کاروبار سے منسلک لوگوں کو محفوظ ماحول فراہم کریں۔ اخبارات کی بند ش اور ان کے ملازمین کو درپیش خطرات کا نتیجہ محض یہ ہی نکلے گا کہ صوبے میں اظہار رائے کی آزادی مزید زیر عتاب آئے گی اور سکیورٹی کی صورتحال بتدریج زوال پذیر ہوگی جس کے باعث معاشرہ مزید تقسیم کا شکار ہوگا۔
ڈاکٹر مہدی حسن
چیئر پرسن ایچ آرسی پی

Category: Urdu Press Release

Leave a Reply