جنوبی وزیرستان میں طالبانائزیشن کی بحالی تشویش کا باعث ہے

| November 21, 2017 | 0 Comments
پریس ریلیز
لاہور
21 -نومبر، 2017
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں ایک امن کمیٹی نے علاقے میں تقریباً ہر قسم کی سماجی۔ ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ اپنے خاندان کے کسی مرد کے بغیر خواتین کے گھر سے باہر نکلنے اور مقامی لوگوں کو رات دس بجے کے بعد عوامی مقامات پر جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ اس قسم کی اطلاعات کا ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آنا اور زیادہ تشویش کا باعث ہے جب جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا کے دیہاتوں شکتوئی، سمال اور بوبارھ میں ایک غیر اعلانیہ فوجی آپریشن کی خبریں بھی گردش کر رہی تھیں۔
کمیشن نے ایک بیان میں کہا: ’’ایچ آر سی پی جنوبی وزیرستان میں طالبانائزیشن کی ممکنہ بحالی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفتوں پر فکر مند ہے۔ وانا میں طالبان امن کمیٹی کی طرف سے پمفلٹس کا اجراء جس میں انہوں نے تجویز کردہ ہدایات پر عملدرآمد کرنے بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی اس وجہ سے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ جنوبی وزیرستان کے بعض علاقوں میں فوجی آپریشن جاری ہے جو اب تک طالبان کمیٹی کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں بظاہر ناکام ہے۔
باوثوق مقامی ذرائع کے مطابق، چند ہفتے قبل، وانا میں ایک نام نہاد دامن کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مقامی ملک اور عمائدین سمیت کمیٹی کے اراکین نے پابندیوں پر مشتمل ہدایات جاری کیں۔ فیصلہ کے چند دن بعد پمفلٹ تقسیم کئے گئے اور اس کے بعد آنے والے جمعہ کو وانا مرکزی جامع مسجد کے پیش امام مولانا تاج محمد نے ان ہدایات کو کسی بھی قیمت پر نافذ کرنے پر زور دیا۔ متنازعہ پمفلٹ کے مطابق، موسیقی، اتھن، (شادی کے موقع پر پیش کیا جانے والا روایتی رقص) اورمنشیات کا استعمال بھی ممنوع ہے۔ خواتین کو اپنے خاندان کے کسی مرد کے بغیر بازاروں اور صحت کے مراکز پر جانے کی اجازت نہیں۔ مذکورہ امن کمیٹی نے ایک نگران کمیٹی قائم کی ہے جو نئی ہدایات کے نفاذ کو یقینی بنائے گی اور ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کرنے میں مدد دے گی۔
ایچ آر سی پی کو یہ جان کر شدید دکھ ہوا کہ جنوبی وزیرستان کے حکام نے اس قسم کا واقعہ رونما ہونے کی تردید کی ہے باوجود اس کے کہ پمفلٹ علاقے میں وسیع پیمانے پر تقسیم کئے گئے اور مقامی افراد واقعے کی تصدیق کر رہے ہیں۔ریاستی غیر ریاستی عناصر سمیت کسی بھی گروہ کو فاٹا میں کسی بھی پاکستانی کے حقوق پر پابندی عائد کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ایچ آر سی پی کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس بربریت پر اس کے آغاز پر ہی قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرے اور فاٹا کے شہریوں کو انہی حقوق اور مواقع کی دستیابی یقینی بنائی جائے جو پاکستان کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ طالبان کو اپنے عزائم کو عملی جامہ پہنانے سے سختی سے روکا جائے، بصورت دیگر خطرہ ہے کہ پورا ملک طالبانائزیشن کی لپیٹ میں آجائے گا جس کے نشانے پر اس وقت فاٹا ہے۔
 
ڈاکٹر مہدی حسن
چیئر پرسن ایچ آرسی پی

Category: Urdu Press Release

Leave a Reply