لاہور
11مارچ،2015ء
پریس ریلیز

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے سزائے موت کے تمام قیدیوں کو پھانسیاں دینے کے حکومتی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کمیشن نے کہاکہ ”دہشت گردی کے واقعات میں ملوث مجرموں کو پھانسی دینے کے لیے پھانسی پر عائد پابندی کا جزوی خاتمہ کیا گیا تھا تاہم اس کے فوری بعد اب سزائے موت والے تمام جرائم کے لیے پھانسیاں دوبارہ شروع کرنے کا عمل باعث تشویش ہے“۔
ایک صدارتی نوٹیفیکیشن کے ذریعے سزائے موت کے تمام قیدیوں کو پھانسی دینے پر عائد پابندی ختم کردی گئی ہے اور وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے تمام صوبوں کے سیکرٹریز داخلہ کو مراسلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت کے ایسے تمام قیدیوں کو پھانسی دینے کے لیے ضروری انتظامات کئے جائیںجن کی تمام اپیلیں خارج ہوچکی ہیں۔
ایچ آر سی پی کواس بات پر افسوس ہے کہ پھانسیوں کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے دہشت گردوں کو سزا سے بچ جانے کے عوامی تاثر کو استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ ایک افسوسناک پیش رفت ہے بالخصوص اس وقت جب حکومت نے واضح طور پر کہا تھا کہ پھانسی صرف دہشت گردی کے واقعات میں ملوث سزائے موت کے قیدیوں کو دی جائے گی۔ ایچ آر سی پی سزائے موت والے تمام جرائم پر پھانسی دینے کی شدید مخالفت کرتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ پاکستان کے قانون میں پائے جانے والے سنگین نقائص پر غور کئے بغیر پھانسیوں کا سلسلہ شروع کرکے حکام انصاف کی بجائے انتقام کا راستہ اپنارہے ہیں۔ اس فیصلے سے پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم ایچ آر سی پی حکومت سے کہتا ہے کہ وہ اس فیصلے کے نتیجے میں ہونے والے انسانی جانوں کے اتلاف کو بھی پیش نظر رکھے۔

(زہرہ یوسف)
چیئر پرسن ایچ آرسی پی