Turbat

ایچ آر سی پی اسپیشل ٹاسک فورس تربت مکران کے زہر اہتمام
’’ضلع کیچ میں تعلیم نسواں کی صورتحال‘‘ کے موضوع پر یک روزہ ورکشاپ

ایچ آر سی پی اسپیشل ٹاسک فورس تربت مکران کے زیر اہتمام’’ضلع کیچ میں تعلیم نسواں کی صورتحال‘‘ کے موضوع پر ایک وسیع ٹریننگ ورکشاپ 26نومبر2015کی صبح 11بجے سے لیکر دوپہر 2بجے تک شاہپور ہوٹل تربت میں منعقد رہی۔ جس میں 80کے لگ بھگ خواتین و حضرات نے شرکت کی، جن کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تھا۔ سب سے پہلے شرکاء کی رجسٹریشن ہوئی۔ پھر ماھین وہاب اور ماھکان مقبول نے جوڑے کی شکل مین ایک ساتھ روسٹورم کے سامنے نمودار ہوکر بطور اسٹیج سکریٹریز اپنا تعارف کرایا۔ پھر انہوں نے پروگرام کے تعارف کے لئے روزل اسلام کو بلایا، جنہوں نے ریوسٹورم کے سامنے آکر پروگرام کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد اسٹیج سکریڑیز کی طرف سے باری باری مقررین کو بلایا گیا، جن میں بالترتیب عائشہ نور، کلثوم عبداللہ، نوید خداداد، پروین نور، فضل کریم ، شہناز شبیر، سدھیر لقمان، شازیہ اختر، محمد کریم کچگی، ماھکان مقبول اور غنی پرواز شامل تھے۔اور آخر میں نگار خلیل نے پروگرام کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے خواتین و حضرات کو ظہرانے کی دعوت دے دی ۔
تمام مقرین نے اپنے اپنے انداز اور الفاظ میں موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوششیں کیں۔ مثال کے طور پر عائشہ نور، کلثوم عبداللہ، نوید خداداد، پروین نور ، شازیہ اختر اور ماھکان مقبول نے مختلف زاویوں سے عالمی، ملکی اور علاقائی سطحوں پر بیان کرتے ہوئے اس شعبے کی نمایاں خدمات سرانجام دینے والی خواتین اور استانیوں کا ذکر کیا، اور اپنے علاقے کی لڑکیوں اور طالبات کی تعلیمی دلچسپی ، محنت اور کامیابیوں کو سراہا۔ فضل کریم نے شہرک سے لیکر ڈنڈار تک کے درجن بھر دیہاتوں کی تعلیمی صورتحال بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس علاقے کی لڑکیوں او رطالبات کو حصول تعلیم کا ازحد شوق بھی ہے اور قابلیت بھی مگر یہاں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کیونکہ سرکاری اسکول ضروریات کے لحاظ سے کم ہیں ، جن میں سے بعض ناگفتہ بہہ سیاسی حالات کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں، اور جوباقی ہیں، وہ بھی مسائل کی شکار ہیں۔ ان سب میں اساتذہ کی انتہائی کمی ہے، اور بعض میں کلاس رومز اور چاردیواریاں بھی نہیں ہیں۔ یہاں چند پرائیویٹ اسکول اور سنٹر ضرور تھے، مگر یہ بھی خراب سیاسی حالات کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں۔ صوبائی حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی اور 26فیصد تعلیمی بجٹ کے زبانی اعلانات تو کئے ہیں۔ لیکن یہ محض نعرے ثابت ہوچکے ہیں۔ کیونکہ عملی طور پر کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ سدھیر لقمان نے ضلع کیچ کے پرائیویٹ اسکولوں اور سینٹروں کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے ان کے مسائل پر روشنی ڈالی ۔ انتہاپسند تنظیموں اور ایجنسیوں کے تعلیم دشمنانہ حملوں کے منفی اثرات کا ذکر کیا ۔ اور خاص طور پر پرائیویٹ اسکولوں سے متعلق نئے تعلیم دشمن بل کا ذکر کرتے ہوئے اس کی غیر ضروری شرائط، پابندیوں اور نقصانات پر روشنی ڈالی ۔ محمد کریم گچکی نے پہلے تو نئے تعلیم دشمن بل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں تو کوئی تعلیمی معیار ہے ہی نہیں ، اور اگر پرائیویٹ اسکول اور سینٹر بہتر تعلیمی معیار پیش کررہے ہیں، تو بعض طاقتیں انہیں بھی ایسا کرنے سے روکنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ تاکہ یاتو اُن کا تعلیمی میعار ختم ہوجائے، یا پھر وہ خود ہی ختم ہوجائیں۔ یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے؟ پھر انہوں نے تعلیمی اداروں میں اوور خصوصاََ اسکولوں میں ایف سی کی بے جامداخلت اور بچگانہ حرکتوں کو انتہائی دلچسپ اور مزاحیہ انداز میں پیش کرکے شرکاء کو کافی محظوظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی پروگرام ہوں، یا علمی اور ادبی پروگرام ہوں، یا پھر خواتیں اور بچیوں کی سرگرمیاں ہوں، ایف سی اہلکار آجکل بالکل بچے بن کر انتہائی ہلکے اور مضحکہ خیز انداز میں ٹانگ اڑاتے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ لوگ کیا سوچ کر اور کن مقاصد کی بنیاد پریہ سب کچھ کررہے ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسا کرتے ہوئے بالکل جوکر لگتے ہیں۔ جن کا بڑے اور بچے مذاق اڑاتے ہیں۔ مگران لوگوں کو خود بالکل احساس نہیں کہ ان کے ان اقدامات سے ان کی کتنی بے عزتی ہورہی ہے۔ اور عوام میں ان کا رہا سہاساکھ بھی گرکر ختم ہورہا ہے۔ جبکہ غنی پرواز نے کہا کہ انسانی زندگی میں تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور ایک قوم اُس وقت مادی ، فکری اور عملی طور پر ترقی کرسکتی ہے جب وہ تعلیم میں ترقی کرے۔ اور اگر تعلیم میں پسماندہ ہو، تو مادی ، فکری اور عملی طور پر بھی پسماندہ ہوگی۔ اس کا ثبوت پوری انسانی تاریخ ہے۔ جس کی مثالوں کی کوئی کمی نہیں۔ مثلاََ جب ھسپانوی دور حکومت میں مسلمانوں نے تعلیم کو اہمیت دے کر اس شعبے میں ترقی کی تو اس کی بدولت باقی تمام شعبہ ہائے زندگی میں بھی ترقی کی، لیکن جب بعد میں اسے نظر انداز کردیااور اس میں پسماندہ ہوگئے، تو باقی شعبہ ہائے زدگی میں بھی پسماندہ رہ گئے۔ اور ان کے برخلاف مغربی ممالک نے تعلیم کو اہمیت دے کر اس شعبے میں نمایاں ترقی کی، اور اس کی بدولت باقی تمام شعبہ ہائے زندگی میں بھی ترقی کی، اور پھر خود ھسپانیہ کو بھی مسلمانوں سے چھین لیا۔ موجودہ سائنسی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کے دور میں بھی مسلمان تعلیم کو اہمیت نہیں دیتے۔ اور اگران کا تعلیمی موازنہ غیر مسلموں سے کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ جیسا کہ امریکہ کی یونیورسٹیوں کی تعداد تقریباََ 5750ہے اور ہندوستان کی یونیورسٹیوں کی تعداد تقریباََ8500ہے،جبکہ تمام 57مسلم ملکوں کی یونیورسٹیوں کی تعدادتقریباََ صرف 498ہے، جن میں یہ پاکستان کی یونیورسٹیوں کی تعداد صرف 103ہے، جو امریکہ اور ہندوستان کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی طرح اگر شرح تعلیم کو لیا جائے تو تمام مغربی ملکوں میں شرح تعلیم یا تو 100%ہے، یاپھر 100%کے قریب ۔ بیشتر سابقہ اور موجودہ سوشلسٹ ملکوں میں شرح تعلیم یا تو100%ہے یا پھر 100%کے قریب ۔ جبکہ پاکستان کی شرح تعلیم صرف 58.7%ہے۔ جن میں سے مردوں کی 69%اور عورتوں کی 45%ہے۔ پاکستان کی 103یونیورسٹیوں میں سے بلوچستان کی قسمت میں صرف 7آئی ہیں اور وہ بھی یا تو ابتدائی مراحل سے گزر رہی ہیں، یا پھر متعدد مسائل کی شکار ہیں۔ اور پاکستان کی 58.7%شرح تعلیم میں سے بلوچستان کی شرح تعلیم 50%ہے۔ جس میں مردوں کی 39%اور عورتوں کی27%ہے۔
کیچ سمیت مکران کے حالات بلوچستان کے دوسرے علاقوں سے یکسر مختلف ہیں۔ جہاں قبائلی اور سرداری نظام نہیں ہے۔ سردار، جاگیردار، وڈیرے اور بڑے سرمایہ دار نہیں ہیں۔ ذاتی جیل خانے، بانڈڈلیبر، جہیز سسٹم، ونی ، ولور، لب اور اسی نوعیت کی دیگر آلائشیں نہیں ہیں۔ بلکہ یہاں مہر سسٹم ہے۔ بہن کو ترکے میں سے حصہ ملتا ہے، مزدور اور کسان کسی کے پابند نہیں، بلکہ بڑی حدتک آزاد ہیں، اور آزادانہ طور پر روزگار اور نوکریاں کرتے ہیں۔ اور عرب ممالک کی آمدورفت کی وجہ سے مالی مدد بھی ملتی رہی ہے اور کسی حد تک اب بھی مل رہی ہے۔ جس کی بناء پر بلوچستان کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں یہاں کے مردوں کی تعلیمی حالت کافی عرصے سے بہتر رہی ہے۔ اور بعد میں جب گرلز اسکول کھولے گئے ، اور لڑکیوں کی تعلیم کا آغاز ہوا، اور پھر لڑکیوں کی کالج کلاسز شروع ہوئیں اور گرلز کالج کھولا گیا، تو پھر لڑکیوں اور خواتین کی تعلیمی حالت بھی بہتر ہوگئی، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ 2013سے مکران کے اور خصوصاََ ضلع کیچ اور ضلع پنجگور کے اسکولوں اور کالجوں پر، اور زیادہ تر پرائیویٹ اسکولوں اور سنٹروں پر انتہا پسندمذہبی تنظیموں اور ایجنسیوں کے تعلیم دشمنانہ حملے شروع ہوئے، جس سے عموماََ تمام تعلیمی ادارے اور خصوصاََ پرائیویٹ اسکول اور سنٹر شدید متاثر ہوئے ۔ اور یہاں کی تعلیم پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انتہاپسند مذہبی تنظیمون اور ایجنسیوں کے سب سے بڑے نشانے وہی تعلیمی ادارے، اسکول اور سنٹر تھے، جہاں لڑکیاں اور خواتین زیر تعلیم تھیں، یا جن میں مخلوط تعلیم رائج تھی۔ اس لئے سب سے زیادہ نقصان لڑکیوں اور خواتین کو اور اُن کی تعلیم کو پہنچا۔
اس وقت ضلع کیچ میں لڑکیوں کے سرکاری اسکولوں کی کل تعداد 239ہے۔ ایک گرلز کالج قائم ہے، دو بوئیز کالجوں میں گرلز کلاسز چل رہی ہیں۔ اور ایک یونیورسٹی موجود ہے، جس میں لڑکیاں اور خواتین بھی زیر تعلیم ہیں۔ ان سب کے حالات درست نہیں ہیں۔ اور ان کے مسائل بے شمار ہیں۔ اور معیار تعلیم کمزور ہے۔ کیونکہ کہیں اسٹاف کم ہے ۔ کہیں عمارت کی کمی ہے۔ کہیں عمارت کاسرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ کہیں بجلی ، پانی اور فرنیچر نہیں ہیں۔ کہیں چاردیواری ، دروازے اور سکیورٹی وغیرہ جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ ان میں سے کئی اسکول بند بھی ہوچکے ہیں۔ جن میں سے بعض تو موجودہ مخدوش حالات کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں ، اور بعض اپنے اپنے مسائل کی بھرمار کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں۔
ضلع کیچ کے پرائیویٹ اسکولوں کی کل تعداد 25رہی ہے، جن میں سے 3مخدوش حالات کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں، جبکہ 22ابھی تک کام کررہے ہیں۔ اسی طرح پرائیویٹ سنٹروں کی کل تعداد23رہی ہے، جن میں سے7مخدوش حالات کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں، جبکہ 16ابھی تک کام کرہے ہیں۔ تاہم ضلع کیچ کے پرائیویٹ اسکولوں اور پرائیویٹ سنٹروں کے ساتھ ساتھ بلوچستان بھرکے تمام پرائیویٹ اسکولوں اور سنٹروں پر ایک نئی اور زوردار ضرب خود بلوچستان صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ حالیہ تعلیم دشمن ’’تعلیمی ریگویشن اتھارٹی بل‘‘کے ذریعے لگ رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلع کیچ کی تعلیم اور تعلیم نسواں سمیت بلوچستان بھر کی تعلیم اور تعلیم نسواں اس وار کو سہہ سکے گی، اور اس سے جانبر ہوسکے گی، یا نہیں؟
ضلع کیچ اور مکران بھر میں تعلیم نسواں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے یہ تجاویز دی جاسکتی ہیں:۔
1۔لڑکیوں کے سرکاری کالجوں اور سرکاری اسکولوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔
2۔واحد یونیورسٹی کے گھمبیر مسائل حل کئے جائیں ، اس کی اپنی مستقل عمارت جلد ازجلد مکمل کی جائے۔ اور مضامین وغیرہ میں اضافہ کیا جائے۔
3۔قابل اور محنتی طالبات کو مزید حصول تعلیم کے لئے ملکی اور غیر ملکی وظائف دیئے جائیں۔
4۔تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور اسے کرپشن سے بچایا جائے۔
5۔سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بے جا جماعتی سیاست ، اقرباپروری،امتیازی سلوک اور مذہبی اور فرقہ وارانہ مسائل اور لڑائی جھگڑوں سے بچایا جائے۔
6۔پرائیویٹ اسکولوں اور سنٹروں میں سرکاری مداخلت بند کی جائے۔ اور اس سلسلے میں تعلیم کش ’’تعلیمی ریگولیشن اتھارٹی بل‘‘ کو پہلی فرضت میں واپس لیا جائے۔
7۔پرائیویٹ اسکولوں اور سنٹروں کو اُن کے اساتذہ کی تنخواہوں، عمارتوں کی تعمیر، فنکشنوں کے انعقاد اور یگر مسائل کے حل کے لئے، سرکاری مالی امداد اور سالانہ گرانٹ فراہم کی جائے۔
8۔پرائیویٹ اسکولوں اور سنٹرون کے مالکان، سربراہان اور اساتذہ ہمت، جرات اور دانشمندی سے کام لیتے ہوئے اپنے اپنے اداروں کی مخلوط تعلیم کو ہرحالت میں برقرار رکھیں، جن اداروں میں مخلوط تعلیم ختم ہوچکی ہے، وہاں اسے بحال کریں اور جن اداروں میں شروع ہی سے مخلوط تعلیم نہیں تھی، وہاں اسے شروع کی جائے۔
9۔ اس حقیقت میں کسی شک وشبے کی کوئی گنجائش نہین، کہ بیشتر سرکاری تعلیمی اداروں میں حکومتوں کی بے توجہی ، بیجا سیاسی مداخلت، اقرباپروری ،امیتازی سلوک، کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے کوئی خاص معیار تعلیم موجود نہیں ہے۔ اور اگر آج کوئی خاص تعلیمی معیار نظر آتا ہے، تو وہ پرائیویٹ اسکولوں اور سنٹروں کی بدولت نظر آتا ہے۔ لہذا معاشرے کے تمام باشعور لوگوں، سماجی تنظیموں اور دیگر گروہوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پرائیویٹ اسکولوں اور سنٹروں کی ہرلحاظ سے بھر پور مدد کریں۔
رپورٹ:۔ غنی پرواز
ایچ آر سی پی اسپیشل ٹاسک فورس تربت مکران
(بلوچستان)
مورخہ:۔26نومبر2015