پریس ریلیز

ایچ آر سی پی کا جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کے حل کے لیے اصلاحات کا مطالبہ

لاہور، 6 اکتوبر 2026: پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کے دیرینہ مسئلے پر قابو پانے کے لیے فوری اور نظام سے متعلق اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایچ آر سی پی نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران محض نئی جیلیں تعمیر کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے نظامِ عدل کی شدید ناکامیوں کا مظہر ہے۔

ایچ آر سی پی کی طرف سے جاری کردہ پالیسی پیپر ‘جیل کی دیواروں سے آگے: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی تعداد میں کمی کے لیے اصلاحات‘ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ 2024ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اصل گنجائش سے اوسطاً 152 فیصد زیادہ قیدی موجود تھے، جبکہ ہر چار میں سے تقریباً تین قیدی کے مقدمات زیرِ سماعت تھے۔ رپورٹ کے مطابق، اس حد سے زیادہ گنجائش کے قیدیوں کے حقوق پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں صفائی اور علاج معالجے کی ناقص سہولیات، متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ، ذہنی صحت کے مسائل، تشدد، اور قیدیوں کی اصلاح کے مواقع کا کم ہونا شامل ہے۔

اگرچہ حکومت نے نئی جیلوں کی تعمیر کو ایک پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم ایچ آر سی پی کا مؤقف ہے کہ جیلوں کی گنجائش بڑھانے سے اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ختم نہیں ہو سکتیں۔ ان وجوہات میں ضمانت کے غیر مؤثر قوانین، ٹرائل سے پہلے حراست پر حد سے زیادہ انحصار، طویل سماعتیں، پروبیشن اور پیرول کا محدود استعمال، اور معمولی جرائم میں ملوث ملزمان یا مجرمان کو قید میں رکھنا شامل ہے۔

ایچ آر سی پی قید کی بجائے آزادی، قیدیوں کی اصلاح اور متبادل سزاؤں پر مبنی بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ضمانت کے قوانین کو بے گناہی کے مفروضے کے آئینی اصول سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے، اور پولیس و استغاثہ پر یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ حراست کیوں ضروری ہے۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ جسمانی/عدالتی ریمانڈ کے اختیارات کا استعمال احتیاط سے کریں اور حراست کی وجوہات بیان کریں، جبکہ قانونی تاخیر کو ضمانت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کا سختی سے اطلاق کیا جائے۔ حکومت کو آزادانہ پروسیکیوشن سروسز کو مضبوط بنانا ہوگا، مقدمات کے متبادل حل کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا، اور پروبیشن اور پیرول کو عام قیدیوں کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔

اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن