پریس ریلیز

ایچ آر سی پی کی رپورٹ سی سی ڈی کی کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے

لاہور، 17 فروری 2026۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے—جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے— جو صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر، ایچ آر سی پی نے 2025 کے آٹھ ماہ کے عرصے میں کم از کم 670 سی سی ڈی مقابلوں کو دستاویزی شکل دی ہے، جن میں 924 ملزم ہلاک ہوئے، جبکہ اسی مدت میں صرف دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ ہلاکتوں کا یہ شدید عدم توازن—یعنی اوسطاً روزانہ دو سے زائد جان لیوا مقابلے—اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے انداز میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفرادی بے ضابطگی کے واقعات نہیں بلکہ ایک ادارتی طرزِ عمل ہے۔ چنانچہ، فیکٹ فائنڈنگ مشن نے ان ہلاکتوں پر فوری اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مشن کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کو منظم انداز میں پامال کیا گیا۔ اگرچہ تشدد اور حراستی اموات (روک تھام و سزا) ایکٹ 2022 ایف آئی کو قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی زیر نگرانی ہر حراستی موت کی تحقیقات کا اختیار دیتا ہے، تاہم مشن کو زیرِ جائزہ واقعات میں اس طریقہ کار پر عمل درآمد کے شواہد نہیں ملے۔ مشن کے زیرِ جائزہ  ایک پٹیشن میں عدالت کو ہی ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دینا پڑا۔ مزید برآں، ان واقعات کی مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات بھی نہیں کرائی گئیں جو ضابطہ فوجداری کی دفعات 174 تا 176 کے تحت لازم ہے۔ پنجاب حکومت، سی سی ڈی اور پولیس حکام نے مشن کی جانب سے ملاقات کی درخواست کا جواب نہیں دیا جو نہایت افسوسناک ہے، کیونکہ شفافیت کا یہ فقدان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے معتبر الزامات سے نمٹنے میں ادارتی عدم آمادگی کو ظاہر کرتا ہے۔

مشن نے متاثرین کے خاندانوں میں خوف کے ماحول کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ایک خاندان نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان پر متوفی کو فوراً دفنانے کے لیے دباؤ ڈالا اور خبردار کیا کہ اگر انہوں نے کوئی قانونی کارروائی کی تو ان کے دیگر رشتہ دار بھی مارے جا سکتے ہیں۔ اس نوعیت کی دھمکیاں مجرمانہ عمل کے زمرے میں آتی ہیں اور انصاف کی راہ میں سنگین رکاوٹ ہیں۔

مشن کے مطابق سی سی ڈی کی کارروائیاں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے لیے طاقت اور آتشیں اسلحہ کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ کے ان بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں، جن کے تحت مہلک طاقت کا استعمال صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب وہ ناگزیر اور متناسب ہو، اور خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے۔ سی سی ڈی کی پریس ریلیز اور ایف آئی آرز میں تقریباً یکساں بیانیہ—کہ ملزمان نے پہلے فائرنگ کی، پولیس نے اپنے دفاع میں کارروائی کی اور ہلاک ہونے والے سنگین جرائم میں ملوث تھے—تقریباً ہر اس کیس میں سامنے آیا جس کا مشن نے جائزہ لیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خود مختار کارروائیوں کی بجائے ایک ترتیب دیا گیا بیانیہ ہے۔

مشن نے نشاندہی کی کہ پائیدار عوامی تحفظ کا حصول ایسے اقدامات کے ذریعے ممکن نہیں جو تفتیش، استغاثہ اور عدالتی احتساب کو نظرانداز کریں۔ دیگر اقدامات کے علاوہ، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ جامع قانونی حفاظتی انتظامات اور آزاد نگرانی کے نظام کے قیام تک پورے صوبے میں تمام پولیس مقابلوں پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ایف آئی اے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی زیرِ نگرانی تمام مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کرے، ایک آزاد سولین پولیس نگرانی کمیشن قائم کیا جائے، اور مقابلوں میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے۔

اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن

The report can be accessed here.