پریس ریلیز
ایچ آر سی پی کی گول میز کانفرنس کا آزادیِ اظہار کے دفاع کے لیے وسیع تر اتحاد قائم کرنے پر زور
اگست 19، 2026، کراچی: پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے زیرِ اہتمام آج منعقد ہونے والی گول میز کانفرنس میں پاکستان بھر سے صحافیوں، مدیران، ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد، فنکاروں، ماہرینِ تعلیم اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے آزادیِ اظہار پر بڑھتے ہوئے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک وسیع قومی اتحاد قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یورپی یونین کے تعاون سے منعقد ہونے والی اس گول میز کانفرنس میں ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے شعبے سے وابستہ نامور شخصیات نے شرکت کی، جن میں ناصر زیدی، اظہر عباس، وسعت اللہ خان، حسین نقی، سلیمہ ہاشمی، ضرار کھوڑو، سہیل سانگی، ڈاکٹر توصیف احمد، عنبر رحیم شمسی، فرزانہ علی، اویس توحید، شہزاد جیلانی، شہزادہ ذوالفقار، منزہ صدیقی، عامر سہیل، مہمل سرفراز، اکبر نوتیزئی، اسد طور، ابسا کومل، فاضل جمیلی، وقاص عالم، رستم علی، عدنان رحمت، فرح ضیا، حارث خلیق اور ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ شامل تھے۔
شرکا نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران آزادیِ اظہار کے حوالے سے اپنے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) جیسے قوانین کے بے لگام استعمال، بڑھتی ہوئی سنسرشپ، کڑی نگرانی، آن لائن اظہارِ رائے پر من مانی پابندیوں، معلومات تک محدود رسائی، صحافیوں کی ہراسانی اور دھونس و دھمکیوں کے واقعات، اور آزاد، علاقائی و ڈیجیٹل میڈیا پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کی۔ ان کا خاص طور پر کہنا تھا کہ اظہار کی آزادی پر عائد یہ قدغنیں اب صرف صحافیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان عام شہریوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں جو اظہارِ رائے کے اپنے آئینی حق کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتِ حال شہری آزادیوں، جمہوری عمل میں شرکت اور معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
مجوزہ اتحاد میں صحافتی یونینوں، پریس کلبوں، آزاد پیشہ ور اور ڈیجیٹل صحافیوں، وکلا، فنکاروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور دیگر جمہوری قوتوں کو شامل کیا جائے گا۔ یہ اتحاد آزادیِ اظہار کے دفاع کے لیے ایڈووکیسی، اسٹریٹجک قانونی چارہ جوئی، واقعات کی دستاویز سازی، فوری ردِعمل کے نظام اور عوام کر متحرک کرنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دے گا۔
شرکا نے اصلاحات کے ایک مشترکہ ایجنڈے پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے ایسے قوانین، ضوابط اور انتظامی اقدامات کو منسوخ یا ان میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا جو اختلافِ رائے کو جرم قرار دیتے، آن لائن اظہار کو محدود کرتے یا سنسرشپ کو ممکن بناتے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں پر حملوں، جبری گمشدگیوں، قتل، دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات میں مکمل محاسبے اور قانونی کارروائی سے استثنیٰ کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا، جبکہ ادارتی آزادی کو سیاسی، تجارتی اور ادارہ جاتی مداخلت سے تحفظ کے لیے مؤثر ضمانتوں کی فراہمی پر زور دیا۔
کانفرنس میں خواتین صحافیوں کے لیے محفوظ، باوقار اور مساوی مواقع پر مبنی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی خصوصی زور دیا گیا، جبکہ آزاد پیشہ ور اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ کارکنوں کو بھی مساوی قانونی اور پیشہ ورانہ تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکا نے صحافتی یونینوں، انجمنوں اور پریس کلبوں پر زور دیا کہ وہ ذرائع ابلاغ کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے تقاضوں کے مطابق اپنے کام میں جدت لائیں اور صحافیوں کو قانونی معاونت، اجتماعی نمائندگی اور ہنگامی حفاظتی سہولیات فراہم کریں۔ ذرائع ابلاغ کے اداروں سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ منصفانہ اجرت، ملازمت کے تحریری معاہدے، انشورنس اور کام کے محفوظ حالات کو یقینی بنائیں۔ پاکستان کے تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے، شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آزادیِ اظہار کے دفاع کی جدوجہد میں ملک کے تمام صوبوں اور خطوں کے مخصوص زمینی حقائق کی عکاسی ہونی چاہیے تاکہ علاقائی آوازوں اور شہری آزادیوں کو یکساں طور پر تحفظ حاصل ہو۔
اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن