پریس ریلیز

جڑانوالہ میں مسیحی برادری پر حملوں میں مقامی مذہبی رہنما ملوث تھے: ایچ آر سی پی فیکٹ فائنڈنگ مشن

اگست 25، 2023۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے  فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق، 16 اگست کو جڑانوالہ میں مقامی مسیحی برادری پر  ہجوم نے وحشیانہ حملے کر کے کم ازکم 24 گرجا گھروں، کئی چھوٹی عبادت گاہوں اور درجنوں گھروں کو آگ لگائی اور لُوٹ مار کی۔ ایک مسیحی شخص پر توہینِ مذہب کے الزامات لگنے اور  افواہیں  پھیلنے کے بعد مسجد کے اسپیکرز سے اعلانات کے ذریعے مسلمانوں کو کارروائی کرنے پر اکسایا گیا جس کے باعث قصبے میں ہزاروں لوگ جمع ہو‏گئے اور پھر اُنہوں نے مسیحی عبادت گاہوں اور گھروں کا رخ کر لیا۔

ایچ آر سی پی کی چئیرپرسن حنا جیلانی، سنٹر فار سوشل جسٹس کے ایگذيکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب، ویمن ایکشن فورم کی سینئر رُکن نیلم حسین اور تاریخ دان و انسانی حقوق کے کارکن یعقوب بنگش پر مشتمل مشن نے کہا ہے کہ ‘اِس شبہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجا سکتا کہ یہ ہجوم (جو حملوں کا سبب بنا) بغیر سوچے سمجھے  یا  اچانک جمع نہیں ہوابلکہ مقامی مسیحوں کے خلاف وسیع تر نفرت انگیز مہم کا حصہ تھا۔

مشن کو احساس ہے کہ پولیس کے پاس ایک چھوٹے قصبے میں بڑے پیمانے کے تشدد پر قابو پانے کے لیے مناسب  انتظامی وسائل اور قانون کے نفاذ سے متعلق دیگر ذرائع دستیاب نہیں تھے جس کی وجہ سے اسے صورت حال سے نمٹنے میں مشکلات پیش آئیں، تاہم،  پویس کی طرف سے واقعے پر جوابی کارروائی کرنے میں تاخیر اور ہجوم پر قابو پانے کے لیے ناقص حکمتِ عملی اختیار کرنے کا معاملہ تشویش کا باعث ہے۔

مشن نے توہینِ مذہب کے قوانین پر نظرثانی کرنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ ان قوانین کو کسی فرد یا مذہبی اقلیت کے خلاف ناجائز طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔ اِس کے علاوہ، منظّم انتہا پسند گروہوں سے نمٹنے کے لیے  ضروری پالیسیاں اور حکمت عملیاں اپنائی جائیں، خاص طور پر قانون کے نفاذ اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے تاکہ اِس قسم کے گروہ ریاست کی عملداری کو نقصان پہنچانے کے نہ تو قابل رہیں اور نہ ہی اُنہیں اِس کی اجازت ہو۔

مشن نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ  2009 میں گوجرہ میں مذہبی فسادات کے بعد ہونے والی عدالتی تحقیقات کی سفارشات پر عمل درآمد کرے تاکہ ایسے منظم مسلم مذہبی گروہوں کا محاسبہ ہو سکے جو مذہبی اقلیتوں پر تشدد کے اِرادوں کا کھلے عام اظہار کرتے ہیں۔ حکومت کو کسی کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

حکومت متاثرہ برادری کے نقصانات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کرے اور جڑانوالہ میں حملوں کا نشانہ بننے والے مسیحی گھروں اور جائے عبادات کی تعمیرِنو کرے۔ معاوضے کی رقم لوگوں کو پہنچنےوالے نقصانات کو مدِنظر رکھ کر طے کی جائے اور جلد از جلد تقسیم کی جائے۔ انتظامیہ کھلے عام وضاحت دے کہ اسسٹنٹ کمشنر جو عقیدے کے اعتبار سے مسیحی ہیں، کا تبادلہ اُن کی کسی غلطی کی وجہ سے نہیں  بلکہ اُنہیں اور اُن کے اہل ِخانہ کو تحفظ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

مذہبی اقلیتوں کی جائے عبادات کے تحفظ کے لیے الگ پولیس فورس کے قیام کے حوالے سے عدالت ِعظمٰی کے 2014 کے حکمنامے پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے اور اِس مقصد کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔

حناجیلانی
چئیرپرسن

.رپورٹ درج ذیل لنک پر دستیاب ہے

http://hrcp-web.org/hrcpweb/wp-content/uploads/2020/09/Incident-report_Mob-led-destruction-of-churches-in-Jaranwala.pdf