پریس ریلیز

حکومت کو سیلاب متاثرین کی بحالی کو ترجیح دینی چاہئے

لاہور، 22 دسمبر 2025۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں شدید مون سون سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جائے۔ ان میں سے کئی خاندان مناسب امداد نہ ہونے کے باعث اپنے گھروں کی تعمیرِ نو کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہیں جو کہ موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ بڑھ گئی ہیں۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے نومبر کے اوائل میں جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کی گئی فیکٹ فائنڈنگ میں ملتان کی بستی لانگ اور بستی شیر شاہ، اور اوچ شریف کی بستی جٹ کھرپا کے متاثرہ خاندانوں کے مسائل قلمبند کیے گئے۔ بستی لانگ کے مکینوں نے بتایا کہ سیلاب سے تقریباً 300 گھر تباہ ہو ئے، تاہم نقصانات کے تعین کے لیے سرکاری سروے یا تو کیے ہی نہیں گئے یا تاخیر کا شکار رہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ گھرانوں کو مناسب معاوضہ نہیں ملا۔ حکومت کی جانب سے فی ایکڑ 20 ہزار روپے کے معاوضے کو ایک متاثرہ فرد نے ’زخموں پر نمک چھڑکنے‘ کے مترادف قرار دیا۔

موضع جٹ کھُرپا کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ ستلج سے آنے والا سیلابی پانی کو جان بوجھ کر ان کے دیہات کی طرف موڑا گیا تاکہ قریبی شہری علاقوں اور بااثر افراد کے زرعی مفادات کو تحفظ دیا جا سکے۔ متعدد مقامات پر مقامی برادریوں کا کہنا تھا کہ امداد کی تقسیم اور نقصانات کے اندازوں میں سیاسی مداخلت شامل رہی۔ ، جبکہ ایک متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ صرف وہی افراد حکومتی امداد حاصل کر سکے جن کے پاس اراکینِ اسمبلی کی سفارشات تھیں۔ باغات اور زرعی اراضی کی تباہی کی نشاندہی کرتے ہوئے—اور بعض علاقوں میں اب بھی پانی کھڑا ہونے کے باعث—کئی افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ اگلی فصل کاشت نہیں کر سکیں گے، جس سے ان کی جمع پونجی خطرے میں پڑ جائے گی۔

ایچ آر سی پی پنجاب حکومت پر زور دیتا ہے کہ نقصانات کے شفاف اور جامع تخمینے لگائے جائیں اور فوری بحالی، رہائش اور تعمیرِ نو کے لیے معاونت فراہم کی جائے۔ کسی بھی بے ضابطگی کے ذمہ دار اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ ضروری امر یہ ہے کہ مزارعین اور زرعی مزدوروں کو بھی تمام امدادی اور معاوضے کی اسکیموں میں شامل کیا جائے۔

اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن