پریس ریلیز
سندھ میں شہری آزادیوں اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال باعثِ تشویش ہے
کراچی، 24 جون 2025: پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی سالانہ رپورٹ ‘انسانی حقوق کی صورتحال 2024’میں جمہوریت کی شدید تنزلی کی نشان دہی کی گئی ہے، جس کی علامات میں عام انتخابات کی شفافیت پر سنگین سوالات، اختلافِ رائے پر سخت پابندیاں، اور بڑھتی ہوئی شدت پسندی شامل ہے۔ آج ایک پریس کانفرنس میں ایچ آر سی پی کے عہدیداروں نے صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، ماورائے عدالت قتل اور صنفی بنیادوں پر تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میرپورخاص میں ڈاکٹر شاہ نواز کنبھر، جن پر توہینِ مذہب کا الزام تھا، کا دورانِ حراست قتل توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال اور ماورائے عدالت قتل کا ارتکاب کرنے والوں کو حاصل سزا سے استثنا میں خطرناک اضافہ کی عکاسی کرتا ہے۔ کراچی میں سول سوسائٹی کی جانب سے ڈاکٹر کنبھر کے قتل کے خلاف نکالی گئی پرامن رواداری مارچ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا پرتشدد اور غیر متناسب ردعمل اختلافِ رائے اور اظہار رائے کی کم ہوتی گنجائش کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایچ آر سی پی کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ 2024 میں سندھ میں سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جبری گمشدگیاں بلا تعطل جاری رہیں۔ قوم پرست کارکن ہدایت لوہار، جنہیں پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا اور بعد ازاں رہا کر دیا تھا، کو ضلع قمبر شہدادکوٹ میں ان کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا۔ ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن کو بھی ان کے انسانی حقوق سے متعلق کام کی بنیاد پر پولیس نے بلاجواز حراست میں رکھا اور ان سے پوچھ گچھ کی۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سندھ میں عام انتخابات میں سیاسی مداخلت کے الزامات سامنے آئے۔ انتخابات سے پہلے اور بعد میں سندھ ہائی کورٹ میں متعدد انتخابی پٹیشنز دائر کی گئیں، خاص طور پر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدواروں کی جانب سے۔ تاہم اقلیتی نمائندے انتھونی نوید کا بطور ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی انتخاب کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا۔
حکومتی کوششوں کے باوجود سندھ میں 2024 کے دوران جرائم کی شرح میں 2023 کے مقابلے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی تصدیق سندھ پولیس کے اعداد و شمار سے ہوتی ہے۔ شدت پسندی کے واقعات بھی جاری رہے، جن میں ایک حملہ، جس کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی، کراچی میں ہوا جس میں دو چینی شہری اور ایک پاکستانی ہلاک ہوا۔
سال بھر کمزور طبقات کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ خواتین غیرت کے نام پر تشدد کا شکار رہیں اور کم از کم 134 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ایک واقعے میں کراچی میں 100 سے زائد افراد نے متجنس افراد پر حملہ کیا اور انہیں جسمانی و جنسی تشدد کی دھمکیاں دیں۔ پناہ گزینوں کی صورتحال بھی تشویشناک رہی، سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں تمام ‘غیر قانونی مہاجرین’ کو صوبے سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم افغان مہاجرین کی ملک بدری کے معاملے پر سندھ کی سول سوسائٹی منقسم رہی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے چھ نہریں تعمیر کرنے کے منصوبے، جس کا زیادہ فائدہ پنجاب کو ہونا تھا، پر سندھ سے مشاورت کے بغیر عملدرآمد کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ اس فیصلے نے سندھ میں پانی کی تقسیم پر بین الصوبائی شکایات کو ہوا دی اور دریائے سندھ سے جڑی ماحولیاتی اور زرعی پائیداری کے لیے خطرہ پیدا کر دیا۔ صوبہ شدید گرمی کی لہر اور مون سون کی تباہ کن بارشوں کا بھی شکار رہا، جس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور متعدد اضلاع میں لوگ بے گھر ہوئے۔
اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن