پریس ریلیز
نوآبادیاتی اثرات سے آزاد قانون انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے: ایچ آر سی پی
کراچی، 4 ستمبر 2025۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے زیرِاہتمام”قانون کو نوآبادیاتی اثرات سے آزاد کرنا: پاکستان میں انسانی حقوق اور قانونی اصلاحات” کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں وکلا، صحافیوں، ماہرینِ تعلیم اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ اکستان کے عدالتی اور سیاسی ڈھانچے میں نوآبادیاتی قانون کی جھلک اب تک نمایاں ہے، جس کا ایک بھاری خمیازہ کمزور طبقات کو بھگتنا پڑتا ہے۔
ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد بٹ نے یاد دلایا کہ آزادیوں کو محدود کرنے والے قوانین اسمبلیوں سے فوراً منظور ہو جاتے ہیں، جب کہ مفادِ عامہ کے قوانین التوا کا شکار رہتے ہیں۔ ایچ آر سی پی کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق نے زور دیا کہ نوآبادیاتی نظام نے معاشروں کو بالادست اور پسماندہ طبقات میں تقسیم کر دیا ہے اور عوام کے ساتھ شہریوں کے بجائے رعایا جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔
جسٹس (ر) مقبول باقر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا عدالتی نظام اب بھی اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے کہ لوگوں کو کنٹرول کیا جائے، نہ کہ ان کے حقوق کا تحفظ۔ انہوں نے اختلافِ رائے کو جرم قرار دینے والے قوانین کے خاتمے، انسانی ہمدردی کو قانونی عمل کا حصہ بنانے اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ پر زور دیا۔
ابتدائی سیشن میں وکیل سارہ ملکانی نے واضح کیا کہ بغاوت اور امتناعی حراست کے قوانین نوآبادیاتی حکمتِ عملی کا تسلسل ہیں، جبکہ محقق نازش بروہی نے نشاندہی کی کہ ریاست کا جاری “تہذیب سکھانے کا مشن” دراصل نوآبادیاتی ورثہ ہے۔ صحافی اکبر نوتیزئی نے نشاندہی کی کہ بلوچستان کو اب بھی “نوآبادی” سمجھا جاتا ہے، جہاں وسائل کی لوٹ مار اور وسیع پیمانے پر جبری گمشدگیاں جاری ہیں۔ وکیل اسفندیار وڑائچ نے اجتماع کی آزادی کو “تمام حقوق کا مرکز” قرار دیتے ہوئے پرامن احتجاج پر قدغن لگانے والے نئے قوانین پر تشویش کا اظہار کیا۔
بعد ازاں تین موضوعاتی نشستوں میں شرکاء نے اپنی اپنی تحقیق کے خلاصے پیش کیے۔ اظہارِ رائے کی آزادی پر گفتگو کرتے ہوئے ڈیجیٹل حقوق کی کارکن فریحہ عزیز اور وکلا مومنہ توفیق، سمرا سہیل، صبغت شیخ اور اسفند کچھیلا نے نشاندہی کی کہ پیکا اور بغاوت کے قوانین کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایچ آر سی پی کے کونسل رکن سہیل سنگی نے کہا کہ ڈیجیٹل جبر دراصل “پریس پر نوآبادیاتی پابندیوں کی جدید شکل” ہے۔
وکلاء عبیرہ اشفاق اور مدثر فاروق، ثقافتی حقوق کی ماہر سعدیہ فاروق عظیمی اور ایچ آر سی پی کی کونسل رکن سعدیہ بلوچ نے ضابطہ فوجداری، اراضی کے حقوق اور سماجی ضبط میں نوآبادیاتی اثرات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تعلیمی اصلاحات، امتیازی قوانین کے خاتمے اور انسانی و مقامی اصولوں پر مبنی قانون کی نئی تعریف پر زور دیا۔
ایچ آر سی پی کے اسٹاف ممبر سلمان فرخ اور وکیل علیزہ مسعود نے واضح کیا کہ نوآبادیاتی قوانین نے جبری شادی اور عورتوں کی رضا سے انکار کواستحکام بخشا ہے، جبکہ وکیل حریم گودیل نے بتایا کہ توہینِ مذہب کی دفعات استعماری دور میں متعارف ہوئیں اور آج تک ان کا غلط استعمال جاری ہے۔ ۔ ایچ آر سی پی کی کونسل رکن مہناز رحمان نے خواتین کی جدوجہد کو واضح کیا جو نوآبادیاتی اور پدرشاہی ڈھانچوں کے خلاف ہے۔ وکیل صلاح الدین احمد نے عدلیہ میں حساسیت پیدا کرنے اور خواتین و اقلیتوں کے خلاف قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات تجویز کیے۔
اپنے اختتامی کلمات میں ایچ آر سی پی کی سابق چیئرپرسن حنا جیلانی نے کہا: “ہم نہ تو نوآبادیاتی اور نہ ہی مقامی آمریت کی روایات کو تھامے رکھ سکتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کو انصاف اور مساوات کا عکاس ہونا چاہیے۔”
کانفرنس کے اختتام پر سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے کہا کہ مذہبی برادریوں کے حقوق اور آزادیوں سے متعلق مسودہ قوانین پر تنقید ضروری ہے تاکہ یہ قوانین کمزور طبقات کے لیے رکاوٹ بننے کے بجائے ان کے تحفظ کا ذریعہ بن سکیں۔
فرح ضیاء
ڈائریکٹر