پریس ریلیز

پنجاب میں شہری آزادیوں کا محدود ہونا جمہوری تنزلی کی علامت ہے

لاہور، 27 مارچ 2026۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں شہری آزادیوں کے دائرے کا مسلسل سکڑنا اور حقوق پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں پر منظم قدغنیں دراصل پاکستان میں جاری جمہوری تنزلی کی علامت ہیں۔

رپورٹ میں ایسے متعدد واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں غیر سرکاری تنظیموں کو متعدد مراحل پر مبنی منظوری کے پیچیدہ عمل سے گزرنا پڑا، جن میں اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کے ساتھ لازمی مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز)، ضلعی سطح پر این او سیز اور رجسٹریشن سے قبل سیکیورٹی کلیئرنس جیسے کٹھن تقاضے شامل ہیں۔ ان تقاضوں کو مزید سخت کرتے ہوئے صوبائی چیریٹیز کمیشنز کے تحت دوبارہ رجسٹریشن کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان رکاوٹوں نے نہ صرف این جی اوز کی سرگرمیوں کے دائرہ کار اور وسعت کو محدود کردیا ہے بلکہ اس کا نتیجے میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے جاری اہم پروگرامز معطل یا مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔ اگرچہ عدالتوں نے بعض موقعوں پر ریلیف فراہم کیا، خصوصاً ای اے ڈی کی 2022 کی پالیسی کو کالعدم قرار دے کر، تاہم حقوق سے ہم آہنگ جامع قانونی فریم ورک کی عدم موجودگی نے انتظامی اختیارات کے بے جا استعمال کو جاری رکھا ہے۔

فیکٹ فائنڈنگ مشن کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے بظاہر قانونی طریقہ کار کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی کارروائیوں —جیسے اجازت ناموں کو روکنا، بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا اور تنظیموں کو بار بار جانچ پڑتال کا نشانہ بنانا—کے ذریعے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا زیادہ تر نشانہ حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں بنی ہیں، جس کے باعث کئی تنظیموں کو اپنے وسائل کا بڑا حصہ محض ضوابط کی تعمیل پر خرچ کرنا پڑا، سرگرمیاں محدود کرنا پڑیں یا ایڈووکیسی کا کام ترک کرنا پڑا۔ اس صورتحال کے اثرات خصوصاً خواتین کی زیرِ قیادت تنظیموں اور اقلیتوں کے حقوق پر کام کرنے والی ان تنظیموں پر زیادہ شدید رہے ہیں، جو غیر ریاستی عناصر کے خطرات اور ادارتی معاونت کی کمی جیسے دوہرے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔

رپورٹ پر تبادلہ خیال کے لیے آج منعقد ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مشن کے رکن زیشان نوئل نے کہا کہ پاکستان میں قانونی اور پالیسی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے شہری آزادیوں کو بتدریج محدود کر کے جمہوری تنزلی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مشن کے ایک اور رکن نسیم انتھونی کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں معاشرے میں فکری زوال بھی پیدا ہو رہا ہے۔ وکیل ثاقب جلانی نے زور دیا کہ ای اے ڈی کی 2022 کی پالیسی کے خلاف مقدمات لڑنے والے وکلاء کو متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔

سیمرغ کی ایگزیکٹو کوآرڈی نیٹر نیلم حسین نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود این جی اوز کا “مزاحمت اور مکالمے کا عزم” برقرار رہنا چاہیے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر عرفان مفتی نے بتایا کہ نئی این جی اوز کی رجسٹریشن میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ اس عمل کی نگرانی میں متعدد قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں۔

وائز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بشریٰ خالق نے نشاندہی کی کہ جنوبی پنجاب میں خواتین کی زیرِ قیادت کام کرنے والی تنظیمیں ان ضوابط سے خاص طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کے مطابق موجودہ صورتحال سول سوسائٹی کے لیے ایک موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ باہمی تعاون سے مؤثر حکمت عملی اپنائے۔ سیمینار کے اختتام پر ایچ آر سی پی پنجاب کے وائس چیئر راجہ اشرف نے کہا کہ حقوق کو ایک وسیع ادارتی حکمت عملی کے تحت منظم انداز میں محدود کیا جا رہا ہے۔

اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن