پریس ریلیز

سیلاب سے ہونے والی تباہی انتظامی غفلت کی عکاس ہے

لاہور، 10 ستمبر2025۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کو ملک بھر میں آنے والے تباہ کن سیلابوں پر سخت تشویش ہے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا کے بعض حصوں اور گلگت بلتستان سے موصول ہونے والی اطلاعات انسانی جانوں اور مال و اسباب کے وسیع پیمانے پر نقصان کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ آفات اب محض ‘قدرتی’ نہیں رہیں بلکہ یہ انسانوں کی پیدا کی ہوئی ہیں جس کی وجہ ناقص منصوبہ بندی، زمینوں پر قبضے، جنگلات کی کٹائی، بدعنوانی اور ماحولیاتی غفلت ہے، جس کی ذمہ داری ریاست اور یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔

اگرچہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم ایچ آر سی پی اس بات پر زور دیتا ہے کہ ان کوششوں کو فوری طور پر بڑھایا جائے۔ مزید امدادی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور زیادہ کیمپ قائم کیے جائیں جہاں خوراک، پناہ گاہ، صاف پانی اور طبی سہولتوں تک منصفانہ رسائی یقینی بنائی جائے۔ سب سے زیادہ کمزور طبقات—خواتین، بچے، بزرگ اور معذور افراد—پر خصوصی توجہ دی جائے۔

یہ سیلاب ماحولیاتی پناہ گزینوں کی حالت زار کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جو اپنے گھر اور روزگار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان بے گھر افراد کو طویل المدتی بحالی کے منصوبوں کے ذریعے تسلیم کرے اور رہائش اور روزگار کے مواقع کے ذریعے ان کی بحالی نو کو یقینی بنائے۔ بصورت دیگر غربت، محرومی اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔

اگلے مرحلے میں اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے، جن میں خوراک کی مہنگائی، شہروں کی طرف ہجرت اور پہلے سے دباؤ کا شکار شہری انفراسٹرکچر کا انہدام شامل ہے۔ وسیع زرعی زمین زیرِ آب آنے اور فصلوں کی تباہی کے باعث خوراک کی ترسیل کا نظام متاثر ہوگا، جو ایک معاشی اور انسانی بحران کا باعث بنے گا۔

ایچ آر سی پی حکومت کو خبردار کرتا ہے کہ غیرمربوط اقدامات ناکافی ہوں گے۔ اس وقت مکمل وسائل سے لیس، بااختیار اور فعال مقامی حکومتوں کی ضرورت ہے تاکہ مقامی سطح پر آفات کی تیاری اور فوری ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔ شہری دفاع کے اداروں کو فعال کیا جائے، ابتدائی انتباہی نظام کو جدید بنایا جائے اور ماحولیاتی طور پر محفوظ انفراسٹرکچر کو ترجیح دی جائے۔ آبی گزرگاہوں پر قبضے کے فوری خاتمے اور دلدلی علاقوں کی بحالی جیسے اقدامات ان آفات کے تسلسل اور شدت کو کم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

ایچ آر سی پی وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو تسلیم کریں، سیاسی عزم اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں، اور فیصلہ کن و شمولیتی اقدامات کریں تاکہ پاکستان کو ہر سال بے دخلی اور تباہی کے تسلسل سے بچایا جا سکے۔

اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن