پریس ریلیز
ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کا خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق اور سکیورٹی کی صورتِ حال پر اظہارِ تشویش
پشاور، 26 ستمبر 2025۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے زیر قیادت خیبر پختونخوا کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے ریاستی رٹ کے تیزی سے ختم ہوتے ہوئے اثر اور حکومت کی شہریوں کے حقِ زندگی اور آزادی کے تحفظ میں ناکامی، بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں، پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ مشن ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ، شریک چیئر منیزے جہانگیر، خزانچی اور سینئر صحافی حسین نقی، وائس چیئر اکبر خان، ماہرِ تعلیم اور ایچ آر سی پی کی رکن ڈاکٹر صبا گل خٹک، اور ایچ آر سی پی کے اسٹاف ممبران شاہد محمود اور سلمان فاروق پر مشتمل تھا۔ مشن نے 24 تا 26 ستمبر 2025 کے دوران سول سوسائٹی کے نمائندوں بشمول صحافیوں، وکلا، انسانی حقوق کے دفاع کاروں اور تنازع کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزیر اعلیٰ سمیت خیبر پختونخوا حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔
مقامی برادریوں اور فریقین نے بڑھتے ہوئے تشدد، بے دخلی اور سکیورٹی آپریشنز، اور مجوزہ خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے تحت قدرتی وسائل کے حصول کے درمیان ایک تشویش ناک تعلق کی نشاندہی کی ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے کئی حصوں میں شدت پسند بظاہر بلا روک ٹوک سرگرم ہیں، جو مبینہ طور پر مقامی آبادی کو ہراساں اور بلیک میل کر رہے ہیں، انکار کرنے والوں کو قتل کر رہے ہیں اور شام کے بعد نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق، ان علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی عملی طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں۔
مشن کو خاص طور پر تیراہ میں حالیہ ہلاکتوں پر سخت تشویش ہے، جن میں اطلاعات کے مطابق فضائی بمباری کے کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت 20 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے۔ مشن نے ایک شفاف انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبائی اور وفاقی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کے بجائے جواب دہی کو یقینی بنائیں۔ متاثرین کے لواحقین کو ناکافی معاوضہ دینا ریاستی جواب دہی اور قانون کے معین ضابطے کے تحت سلوک کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
مشن اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاور) آرڈیننس 2019، جو ایک متنازع قانون ہے، تاحال نافذ ہے اور اس کے ذریعے حراستی مراکز اور امتناعی حراست کو قانونی جواز فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ آئین کے آرٹیکل 10 اور پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ، عدالتی اور انتظامی نگرانی میں کمی اور کمزور ریگولیٹری نظام کے باعث جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے ہزاروں واقعات کی شکایات موصول ہوئی ہیں، اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کہیں کم ہیں۔
مشن نے وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے دفاع کاروں، بالخصوص جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کی ہراسانی کے واقعات بھی ریکارڈ کیے ہیں۔ یہ الزام کہ قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی ادارے لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے میں ملوث رہے ہیں اور بعد ازاں یہ افراد حراستی مراکز میں پائے گئے، نہایت سنگین ہے اور اس پر حکومت کا فوری ردعمل ضروری ہے۔
مشن نے قانونی برادری کی طرف سے تنازعات کے متبادل حل (اے ڈی آر) کے نظام کی بحالی پر شدید تحفظات بھی ریکارڈ کیے ہیں، کیونکہ اس طرح ایک متوازی عدالتی ڈھانچہ وجود میں آ سکتا ہے، جو نہ صرف ناقابلِ اعتبار ہوگا بلکہ وہ قانون کی حکمرانی کو بھی کمزور کرے گا۔
مشن کے مطابق، ایسا تاثر ملتا ہے کہ 2018 میں بڑی جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والا آئینی انضمام ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ نہ صرف سماجی اور معاشی ترقی کو پیچھے دھکیل دے گا بلکہ خاص طور پر خواتین اور متجنس (ٹرانس جینڈر) برادری جیسے کمزور طبقات کے حقوق کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔
فرح ضیاء
ڈائریکٹر