پریس ریلیز

وفاقی بجٹ 27/2026 میں مزدوروں اور سفید پوش طبقے کو نظر انداز کیا گیا ہے

جون 2026، لاہور۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے زیر اہتمام آج منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سال 27/2026 کے ‘کفایت شعاری’ پر مبنی بجٹ نے کم آمدنی والے خاندانوں کی فلاح و بہبود، مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کو منظم طریقے سے نقصان پہنچایا ہے۔

سیمینار کی نظامت کرتے ہوئے ماہرِ معاشیات ڈاکٹر فہد علی نے کہا کہ تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور غذائیت پر عوامی اخراجات میں کمی موجودہ عدم مساوات کو مزید بڑھا دے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ گھریلو سطح پر بدلتے ہوئے اخراجات کے رجحانات اور خوراک کا گرتا ہوا معیار بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کا عکاس ہے۔ مزید برآں، ایک ایسے وقت میں جب تخمینہ شدہ کفافی اجرت (لیونگ ویج) قانونی طور پر طے شدہ کم از کم اجرت سے کہیں زیادہ ہے، ایک مناسب معیارِ زندگی کو یقینی بنانے کے لیے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔

ماہرِ معاشیات ڈاکٹر ہادیہ مجید نے کہا کہ بجٹ میں صنف سے متعلق کیے گئے وعدے محض لفظی دکھائی دیتے ہیں، جبکہ تعلیم، صحت اور تحفظ کی ذمہ داری بڑی چالاکی کے ساتھ صوبوں پر ڈال دی گئی ہے جو پہلے ہی مالی طور پر کمزور ہیں۔ اگرچہ بی آئی ایس پی کے تحت سماجی تحفظ کے فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے، لیکن یہ رقوم لوگوں کی بنیادی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ رسمی روزگار میں خواتین کی کم شرکت کے پیشِ نظر، ٹیکس میں چھوٹ کے اعلانات سے بھی زیادہ تر خواتین کو فائدہ پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔ زچہ و بچہ کی صحت اور بقا اور لڑکیوں کی تعلیم کے مسلسل ناقص نتائج کے باوجود، یہ بجٹ خواتین کی معاشی شرکت کی راہ میں حائل انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مزدور رہنما اور آل پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن(اے پی ٹی یو ایف) کی سیکرٹری جنرل روبینہ جمیل نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ایسے اخراجات کو ترجیح دی گئی ہے جن کا محنت کش طبقے کی ضروریات سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ معاشی عدم تحفظ کا شکار کمزور ترین طبقات کو برائے نام تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے نمائندوں سے کسی بامعنی مشاورت کے بغیر تیار کیے گئے اس بجٹ میں کنٹریکٹ ملازمین، گھریلو اور گھروں پر کام کرنے والے مزدوروں، خطرناک شعبوں سے وابستہ کارکنوں، گارمنٹس اور زرعی مزدوروں اور پنشنرز کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی ردوبدل کا بوجھ غیر متناسب طور پر ان لوگوں پر ڈالا گیا ہے جو اسے برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے، جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ بجٹ مزدوروں کے بجائے معاشی اشرافیہ کو فائدہ پہنچائے گا۔

ماہرِ معاشیات ڈاکٹر اقدس افضل کے مطابق، ترسیلاتِ زر میں اضافے اور بڑھتی ہوئی غربت کے باوجود، یہ بجٹ ایک ایسی معیشت کی عکاسی کرتا ہے جس میں بنیادی ڈھانچے میں کوئی اصلاحات نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسوں پر مسلسل انحصار، ٹیکس نیٹ بڑھانے کے محدود اقدامات اور بڑھتی ہوئی مشکلات کے باوجود مالیاتی استحکام کی پالیسی نے کم آمدنی والے خاندانوں اور تنخواہ دار طبقے پر غیر متناسب بوجھ ڈالا ہے۔ اسی کے ساتھ، سماجی تحفظ کے اقدامات ناکافی اور غیر مساوی ہیں، جس کے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

سول سوسائٹی کی تنظیموں اور نیٹ ورکس جیسے کہ ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ – پاکستان، سیمرغ، ویمنز ایکشن فورم ، عورت فاؤنڈیشن، اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ساتھ متعدد لیبر فیڈریشنز اور ٹریڈ یونینز سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے اتفاق کیا کہ حکومت کی جانب سے جس معاشی استحکام کی تشہیر کی جارہی ہے، وہ شہریوں کی بقا اور سماجی انصاف کی قیمت پر حاصل کیا جا رہا ہے۔

اسد اقبال بٹ

چیئرپرسن