پریس ریلیز

تشدد کے خلاف قانون کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری: ایچ آر سی پی کا بلاامتیاز جوابدہی کا مطالبہ

جولائی 30، 2026، اسلام آباد: پاکستان میں 2022 کے تشدد کے خلاف قانون کی منظوری کے باوجود، ناقص عمل درآمد، غیر مؤثر تحفظات اور جوابدہی کے فقدان کے باعث تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس امر کا اظہار پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنی تشدد کے خلاف مہم کے سلسلے میں منعقد ہونے والے ایک گول میز اجلاس کے دوران کیا۔

 یورپی یونین کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس مشاورتی اجلاس میں قانونی ماہرین، حکومتی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی تاکہ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کی جا سکے اور تشدد کے خلاف قومی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے تجاویز مرتب کی جا سکیں۔

ایچ آر سی پی کونسل کی رکن اور سابق چیئرپرسن حنا جیلانی نے کہا کہ دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک اور سزا—بشمول نفسیاتی تشدد—کا تدارک بھی اتنا ہی اہم ہے، کیونکہ اس کے اثرات جسمانی تشدد کی طرح شدید اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے تشدد اور ناروا سلوک کے واقعات کی نشاندہی، تحقیقات، دستاویز سازی اور کارروائی کے حوالے سے واضح طریقہ کار اور عملی رہنمائی موجود نہیں ہوگی، اس وقت تک قانون پر مؤثر عمل درآمد ممکن نہیں۔

 شرکاء نے اس بات کو بھی نوٹ کیا کہ تشدد اور ناروا سلوک کا ارتکاب صرف ریاستی اہلکار ہی نہیں کرتے، تاہم انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسی کارروائیوں کی روک تھام، متاثرین کے تحفظ اور بلاامتیاز احتساب کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اقوام متحدہ کی تشدد کے خلاف کمیٹی (CAT) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل اسد جمال نے نشان دہی کی کہ 2017 میں پاکستان کے پچھلے جائزے کے دوران اٹھائے گئے خدشات کو 2026 کے حالیہ جائزے میں بھی دہرایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تشدد کے تسلسل کا باعث بننے والے ادارتی مسائل ابھی تک حل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو غیر قانونی حراست کی روک تھام کے لیے واضح ضوابط تشکیل دینے چاہئیں، انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق جیل ضوابط میں ترمیم کرنی چاہیے اور اپنے قانونی و ادارتی فریم ورک کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔

 وزارتِ قانون کے مشیر عثمان علی نے ایچ آر سی پی کو تشدد کے خلاف فریم ورک پر عمل درآمد کو مضبوط بنانے کے لیے سفارشات پیش کرنے کی دعوت دی۔ پی ٹی آئی کے رہنما تیمور جھگڑا نے ایچ آر سی پی کی مہم کو سراہا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رویّوں میں تبدیلی لانے کے لیے سول سوسائٹی کا کردار انتہائی اہم ہے، اور تشدد کو روکنے میں ناکامی صرف قانون سازی کی کمی تک محدود نہیں ہے۔

اجلاس کے اختتام پر ایچ آر سی پی کونسل ممبر فرحت اللہ بابر نے خیبر پختونخوا میں قائم حراستی مراکز کی جانب توجہ دلائی اور کہا کہ ان مراکز کو یا تو ختم کیا جائے یا پھر انہیں آزادانہ سویلین نگرانی کے ساتھ سویلین جیل کے نظام کے تحت لایا جائے۔ انہوں نے حکومت سے اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف کنونشن کے اختیاری پروٹوکول (OPCAT) کی توثیق کا بھی مطالبہ کیا، تاکہ ایک قومی امتناعی نظام کے تحت تمام حراستی مراکز کے باقاعدہ اور اچانک معائنے ممکن ہو سکیں۔

اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن

پٹیشن پر دستخط کریں۔ تشدد کا خاتمہ، قانون میں فوری اصلاح