پریس ریلیز
قومی گول میز کانفرنس کا میڈیا اور ڈیجیٹل آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ
اسلام آباد، 17 جولائی 2025۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے یورپی یونین کی معاونت سے ایک قومی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں ماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی کے رہنما، وکلا، مدیران اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد اظہارِ رائے کی آزادی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں اور ڈیجیٹل اسپیس کی کم ہوتی گنجائش کا جائزہ لینا تھا۔
گول میز کانفرنس کا آغاز معروف سیاسیات دان ڈاکٹر محمد وسیم کے ابتدائی کلمات سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈیجیٹل حقوق کی کارکن فریحہ عزیز نے انجام دیے۔ انہوں نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ (پیکا) 2025 میں ترمیم، خصوصاً دفعہ 37، کی وضاحت کی، جو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو مبہم اور وسیع اختیارات دیتی ہے۔ کئی مقررین نے آن لائن مواد تخلیق کرنے والوں کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں قانونی طریقۂ کار کی عدم پیروی کی نشان دہی کی۔ صحافی مطیع اللہ جان اور اسد طور نے بتایا کہ یوٹیوب چینلز کو پیشگی اطلاع یا کسی قانونی کارروائی کے بغیر بند کیا گیا۔
اینکرپرسن ابصا کومل نے سینسرشپ کے طریقوں میں تبدیلی کی نشاندہی کی، جو اب گرفتاریوں کے بجائے معاشی دباؤ اور ادارتی دھمکیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں، جس کے باعث بہت سے افراد خود پر سنسر شپ نافذ کرنے پر مجبور ہیں۔ روزنامہ ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر عامر وسیم نے ان خیالات سے اتفاق کیا۔ اینکرپرسن اور ایچ آر سی پی کی شریک چیئرپرسن منیزے جہانگیر نے خبردار کیا کہ حکام سول سوسائٹی اور میڈیا کے درمیان اختلافات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
ایڈووکیٹ طلحہ سرفراز خان نے ہتکِ عزت اور ہراسانی کے درمیان فرق واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بیرسٹر رِدا حسین اور ایڈووکیٹ عثمان وڑائچ نے ہتکِ عزت کے قوانین کے غلط استعمال پر تنقید کی، جو شہریوں کے بجائے ریاستی اداروں کے تحفظ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، اور کہا کہ ڈیجیٹل حقوق کی پامالی گویا ایک ‘ڈیجیٹل مارشل لا’ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے ان دونوں صوبوں سے رپورٹنگ میں درپیش مشکلات کی نشاندہی کی اور کہا کہ دوردراز علاقوں میں جاری جبر اب شہری مراکز تک بھی پھیل چکا ہے۔ شرکا اس بات پر متفق تھے کہ پییکا 2016 اور اس میں 2025 کی ترمیم کو یا تو مکمل طور پر منسوخ کیا جائے یا کم از کم اس میں ترمیم کی جائے۔
سابق سیکریٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور ایچ آر سی پی کے کونسل رکن ناصر زیدی نے سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر فوری قانونی اصلاحات کے لیے آواز بلند کرے۔ صحافی ماہم مہر نے کہا کہ صرف قوانین ہی کافی نہیں ہیں بلکہ معاشی اور قانونی راستوں کو بھی حکمتِ عملی کے ساتھ اپنانا ہوگا۔
سابق سینیٹر اور ایچ آر سی پی کے کونسل رکن فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کی کمیٹی برائے اطلاعات سے مطالبہ کیا کہ وہ پییکا سے متعلق ایف آئی اے کے مقدمات کا ڈیٹا حاصل کرے اور اسے عام کرے۔ انہوں نے توہینِ مذہب کے قوانین اور پییکا کے غلط استعمال کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن کے قیام اور ڈیجیٹل نگرانی پر نظرِ ثانی کا بھی مطالبہ کیا۔
ایچ آر سی پی کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق نے گول میز کانفرنس کے اختتام پر کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے بغیر کوئی بھی حق—خواہ وہ شہری، معاشی ہو یا سماجی— پر بات کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پالیسیوں پر تنقید اور سیاسی اختلافِ رائے پر پابندیوں کی بجائے نفرت انگیز تقریر، آن لائن ہراسانی اور تشدد پر قابو پانا ضروری ہے۔
اسد اقبال بٹ
چئیرپرسن