پریس ریلیز
ایچ آر سی پی کی رپورٹ اقلیتوں کے لیے مساوی شہریت کے ریاستی عزم پر سوال اٹھاتی ہے
اکتوبر15 2026، لاہور۔پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے آج جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ’نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ 2025‘ کی منظوری اور پنجاب و بلوچستان میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے بچوں کی شادی کی روک تھام کے قوانین کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں خبردار بھی کیا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کی جانب یہ اہم اقدامات مذہب یا عقیدے کی آزادی کی مسلسل خلاف ورزیوں سے متصادم ہیں، جن میں توہینِ مذہب کے قوانین کا بطور ہتھیار استعمال، جبری شادیاں اور تبدیلی مذہب، بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقریر، اور مساوی شہریت کو یقینی بنانے میں ریاست کی ناکامی شامل ہے۔
اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ایچ آر سی پی کی ساتویں سالانہ رپورٹ ‘پناہ گاہ سے محرومی: 2025/26 میں مذہب یا عقیدے کی آزادی‘ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ کی منظوری کے مہینوں بعد بھی اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا اور کمیشن کا قیام اب بھی عمل میں نہیں لایا گیا۔ دریں اثنا، توہینِ مذہب کے ملزمان کی بڑی تعداد تاحال قانونی پیچیدگیوں اور تاخیر کا شکار ہے، جبکہ لوگوں کو مبینہ طور پر توہین مذہب کے مقدمات میں پھنسانے والے ایک منظم نیٹ ورک کے ذمہ داروں کے خلاف اب تک کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں احمدیہ برادری پر ہونے والے حملوں کو بھی دستاویز کیا گیا ہے، جن میں چناب نگر میں ہونے والے دو انتہا پسندانہ حملے اور احمدیوں کو عوامی و تجارتی زندگی سے الگ تھلگ کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششیں شامل ہیں۔
مسیحی اور ہندو برادریوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں اغوا اور جبری شادیوں کا شکار ہوتی رہیں، جن کی وجوہات میں غربت اور پولیس کا غیر تسلی بخش ردِعمل شامل ہے۔ ملازمتوں میں امتیازی سلوک، اسکول کے نصاب میں بڑھتی ہوئی اسلامائزیشن اور مرکزی دھارے کے میڈیا میں اقلیتوں کے مسائل کو نظرانداز کیا جانا مساوی شہریت کے تصور کو مزید کمزور کرتا ہے۔
رپورٹ میں وفاقی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بلا تاخیر ’نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ‘ کو فعال کرے، لوگوں کو توہینِ مذہب کے مقدمات میں پھنسانے والے مبینہ نیٹ ورکس کی تحقیقات کرے اور اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اکسانے والوں کا محاسبہ کرے۔ اس کے علاوہ، جبری تبدیلیٴ مذہب اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف ٹھوس حفاظتی اقدامات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مذہب یا عقیدے کی آزادی کی لازمی تربیت، اور انسانی حقوق کے دفاع کاروں، وکلاء اور صحافیوں کے مؤثر تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کو بھی تمام شہریوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے قانون سازی کرنی چاہئے۔
رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کی ڈائریکٹر فرح ضیاء نے خبردار کیا کہ ریاست اقلیتوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جس سے وہ خود کو کٹا ہوا، غیر محفوظ اور دوسرے درجے کا شہری محسوس کرتے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کی فعال کارکن نبیلہ فیروز بھٹی نے شیخوپورہ کے ایک مسیحی میڈیکل پریکٹیشنر کامران گل کے کیس کا حوالہ دیا، جن کی ڈسپنسری کو سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزامات کے بعد 9 اکتوبر کو ایک ہجوم نے آگ لگا دی تھی۔ ایچ آر سی پی پنجاب کے نائب صدر راجہ اشرف نے خبردار کیا کہ توہینِ مذہب کے الزامات کمزور اور غیر محفوظ لوگوں کے استحصال اور انہیں خطرے سے دوچار کرنے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔
احمدیوں کی اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی پر شدید پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کمیونٹی کے نمائندے عامر محمود نے یاد دلایا کہ ان کی برادری کا آخری عوامی اجتماع 40 سال سے بھی پہلے ہوا تھا۔ شہری پاکستان کے ڈائریکٹر عرفات مظہر نے تنبیہ کی کہ توہینِ مذہب کے زیرِ التوا مقدمات میں عوام کو ملزمان کے وکلاء سے رجوع کرنا چاہیے اور عدالتوں کو مناسب قانونی طریقہ کار طے کرنے دینا چاہیے، بجائے اس کے کہ ملزمان کو توہینِ مذہب کے قوانین پر جاری وسیع تر بحث کی علامت بنا دیا جائے۔ ایچ آر سی پی کی سابق چیئرپرسن حنا جیلانی نے اقلیتوں کے خلاف ادارہ جاتی امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتے ہوئے حاضرین کو یاد دلایا کہ جمہوریت میں ’اقلیت‘ اور ’اکثریت‘ کا کوئی تصور نہیں ہونا چاہیے۔
اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن