پریس ریلیز

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ اختیارات کی منتقلی کی بجائے مرکزیت کو فروغ دیتا ہے

لاہور، 22 جنوری 2026: پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 پر غور و خوض کے لیے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ایک مشاورتی اجلاس میں مقامی حکومت کے ماہرین، قانون ساز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں اس بات پر سوال اٹھایا گیا کہ آیا نیا قانون مقامی حکومتوں کی خودمختاری سے متعلق آئینی وعدے کو حقیقی معنوں میں پورا کرتا ہے یا نہیں۔

وکیل شیخ سبغت اللہ نے نشاندہی کی کہ آئین کا آرٹیکل 140اے ایسی خودمختار، جمہوری طور پر منتخب مقامی حکومتوں کی ضمانت دیتا ہے جنہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوں۔ تاہم ان کے مطابق پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 اس ضمانت کو نمایاں طور پر کمزور کرتا ہے کیونکہ اس کے تحت مقامی اداروں کو عوام کے بجائے صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے سامنے جوابدہ بنا دیا گیا ہے۔

ایچ آر سی پی کے خزانچی حسین نقی نے بالواسطہ انتخابات، بیوروکریسی کے غلبے اور منتخب نمائندوں کے کمزور کردار کے ذریعے اختیارات کی دوبارہ مرکزیت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ قانون بیوروکریسی اور وزیر اعلیٰ کو سہولت فراہم کرتا ہے۔ انتخابی ماہر طاہر مہدی نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام مقامی حکومتوں کے قوانین کا مقصد جمہوریت کو مستحکم ہونے سے روکنا رہا ہے اور یہ قانون بھی اس سے مختلف نہیں۔

مقامی حکومت کے ماہر زاہد اسلام نے بالواسطہ طور پر اہم عہدوں کے انتخاب کی حدود کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ اس عمل کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ آئندہ کے لائحہ عمل کے طور پر انہوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی حالیہ قراردادوں کا حوالہ دیا جن میں آئین کے آرٹیکل 7 کی وضاحت، آرٹیکل 32 کو خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور محنت کشوں سمیت تمام محروم طبقات کے لیے مزید جامع بنانے، اور آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے ایک الگ باب شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مخصوص نشستیں شمولیت کی بجائے احساس محرومی میں اضافہ کرتی ہیں، اور یہ تمام انتخابات مشترکہ ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

ایچ آر سی پی کی ڈائریکٹر فرح ضیا نے غیر یقینی صورتِ حال سے بچنے کے لیے مقامی، قومی اور صوبائی انتخابات ایک ہی دن کرانے کی تجویز دی، جس پر گلگت بلتستان میں عمل درآمد متوقع ہے۔

مشاورت میں شمولیت اور برابری سے متعلق تشویشناک پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ عورت فاؤنڈیشن کی نمائندہ نبیلہ شاہین نے خواتین اور محروم طبقات کی بامعنی نمائندگی کے لیے واضح ضمانتوں کی عدم موجودگی پر خدشات کا اظہار کیا۔ انسانی حقوق کے کارکن سیمسن سلامت نے مقامی طرزِ حکمرانی کے فریم ورک میں مذہبی حلف ناموں کی شمولیت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اس اصول کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے کہ مقامی حکومت ریاست اور عوام کے درمیان ایک سماجی معاہدے پر مبنی ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کی ارکانِ اسمبلی بشریٰ لودھی اور قدسیہ بتول نے کہا کہ یہ قانون نچلی سطح پر عوام کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اجلاس میں عجلت میں کی گئی قانون سازی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، کیونکہ یہ ایکٹ حزبِ اختلاف کے واک آؤٹ کے دوران پیش کیے جانے کے بعد اسی دن منظور کر لیا گیا، جس سے شفافیت اور جمہوری قانون سازی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے نمائندے امتیاز محمود نے نشاندہی کی کہ اس ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کے کردار کو عملاً ختم کر دیا گیا ہے، جسے انہوں نے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ ایچ آر سی پی پنجاب کے نائب چیئرمین راجہ اشرف نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ملک میں انتخابات تاریخی طور پر متنازع رہے ہیں۔

شرکاء کی اکثریت کا اتفاقِ رائے تھا کہ مقامی حکومت جمہوری طرزِ حکمرانی اور مؤثر عوامی خدمات کی بنیاد ہے، جبکہ یہ ایکٹ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بجائے انہیں مرکز میں سمیٹتا ہے۔

اسد اقبال بٹ
چیئرپرسن